Monday, July 7, 2014

Documenting Public Opinion from a Political Platform

Political parties are public platforms, which claim to revolutionize this politically fractured - economically crippled - socially fragmented Muslim nuclear state through their policies do not document opinion on issues-affairs even within the party to know what and how majority of the party workers/citizens think for whom they craft policies.

Citizens viewpoint is the ‘information’ required to analyze and formulate policies, which lead to decision making. In our politics, policies are being made (though not implemented) for a common man without knowing his perspective – this creates a demand to gather data by starting process of conducting surveys for more comprehensive policy-making hence, for better decisions.

Voice of citizens on various issues can be portrayed on global canvas by means of human resource political parties have in Union Councils (UC).

To reach public in a different style, gather their opinion scientifically and share it worldwide, I presented a game plan (November 2010) to Tehreek-e-Insaf. To set trend and shape culture of surveying, I implemented different plans.

Conducting the survey (alone) was a 'big' challenge --- took me +2 years.

My vision was to utilize human capital of the party on-ground for research and for that, people were introduced to the concept – I invited them to contribute. I made it people’s project - involved more and more people to make them the credibility factor of the survey. Those who don’t even support the party volunteered in documenting public opinion.

There were three things in my mind:

1.)  Document common man's opinion from a political platform : open a new chapter.

2.) Utilize human resource in UC's for research.

3.)  Engage students in 'research in politics'.

2011 : I tried - I failed.

2012 : I restarted  - took a risk in my life...

Why I took the challenge :: perspective.

When I started the project, my teacher who taught in Engineering told me that he wants to write a book on Calculus (a field of mathematics).

He said, when I was in Pakistan, I shared my thoughts and the idea; people didn't take interest ----- they said, there are already many books of Calculus, why write another...
(now) I am working in a university in America and here when I talk about the book - 'people listen' and appreciate.

He seemed excited about his work.

It’s much easier to do research abroad...; here {in political parties}, people don't have interest and "this was the challenge" _ start research in such an environment.

My perspective (was), stay : fight and prove yourself.

2013 : ...sharing primary data from a political platform.

This is my biggest achievement so far - Alhamdullilah!


In-depth Analysis:

An example has been set for political parties to document public opinion.

I 'congratulate the volunteers for doing a {research} project never been done before and thank them for making this possible.

Facebook page: 

Sunday, June 9, 2013

معاشرہ، سیاست، گورنینس اور سالمیت پر عوام کی رائے

یہ بےمثال تحقیق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین اور غیراراکین نے اسلام آباد میں کی۔ تحقیق 'سروے' پر مبنی تھی جس کا طریقہ 'کنوينئینس سامپلنگ' تھا۔ سروے میں مشاہدے کے لئے سوالنامہ مرتب کیا گیا جو 'اردو' میں 38 سوالات پر مشتمل تھا، جن میں 5 سوالات 'ڈیموگرافکس' کے تھے۔ 

          پی ٹی آئی کے اراکین اور غیراراکین میں 2420 سوالنامے تقسیم کئے گئے؛ 1495 سوالنامے جمع ہوئے - جن میں 897 سوالنامے تجزئیے کے لئے قبول کئے گئے۔ اٹھارہ اور اس سے زیادہ عمر کے شہریوں کا انٹرویو کیا گیا؛ سروے 'ستمبر سے دسمبر 2011' اور 'جنوری سے دسمبر 2012' میں کیا گیا۔

سروے کے نتائج 

ہمارے معاشرے کو دس میں تین (٪30) شہری 'مطلب پرست' اور اتنی ہی تعداد (٪30) 'بے صبرہ/عدم برداشت' جبکہ صرف ٪5 'سخی' سمجھتے ہیں۔ اکثریت سمجھتی ہے کہ لوگ ہمارے معاشرے میں 'محنت' اور 'دیانت داری' سے زیادہ 'پیسے' اور 'عہدے' پر یقین رکھتے ہیں۔

آنے وا لے سال میں صرف ٪7 اپنے آپ کو 'زیادہ محفوظ' اور 'سماجی لحاظ سے پرسکون' جبکہ صرف ٪10 'اقتصادی لحاظ سے مستحکم' دیکھتے ہیں۔ چالیس فیصد سمجھتے ہیں ہمارے معاشرے میں لوگ 'کم آمدن/غربت' اور ٪35 'بے روزگاری' کی وجہ سے خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔

دس میں نو (٪90) شہری 'منتخب نمائندوں کے شاہانہ طرززندگی' کی مخالفت کرتے ہیں؛ 'عوام کا خادم' دس میں آٹھ سے زائد (٪83) شہریوں کا اسلامی فلاحی مملکت کے سربراہ کا تصور ہے جبکہ تقریباً دس میں نو (٪92) شہری 'حکومتی اخراجات میں کمی' کی حمایت کرتے ہیں۔ 

اپنی اولاد کی تعلیم کے بارے میں اکثریت (٪90) کا دھیان 'روائتی سندیافتہ تعلیم' کے برعکس 'اخلاقی اور شعوری پرورش' پر ہے / ہو گا؛ دس میں نو سے زائد (٪93) 'یکساں نظام تعلیم' کی حمایت کرتے ہیں۔ 

دس میں چھ (٪61) شہری احتجاج کرتے ہیں جب وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی دیکھتے ہیں جبکہ نصف سے زائد (٪55) کو سب سے زیادہ فکر 'انصاف' کی ہے؛ تقریباً دس میں چھ (٪57) شہری 'قانون کی بالادستی کا نہ ہونا' کو ہمارے "معاشرے میں" کرپشن کی اصل وجہ سمجھتے ہیں۔ 

تقریباً نصف (٪46) کا سیاست کا تصور 'حکومت کرنے کے سیاسی اصول' ہے۔ دس میں چھ سے زائد (٪64) 'سیاست میں بددیانتی' کی وجہ سے ووٹ نہیں ڈالتے۔

بتيس فیصد کا سیاسی جماعتوں کا تصور 'پتلی تماشا'، ٪27 کا 'ادارے' اور ٪25 کا 'ایک فرد کی اجارہ داری' ہے۔ ایک چوتھائی (٪26) سیاسی جماعت کے 'نظریئے' اور تقریباً اتنی ہی تعداد (٪25) جماعت کے 'سماجی ترقیاتی پروگرام' کی بنیاد پر ووٹ ڈالتے ہیں۔ 

دس میں چھ (٪60) شہریوں کے ووٹ ڈالنے کی وجہ ان کا 'اپنا نقطہ نظر' ہے؛ دس میں آٹھ (٪80) آنے والے الیکشن میں ووٹ ڈالینگے جبکہ تقریباً دس میں سات (٪68) دوسری جماعت کوووٹ ڈالینگے اگر جس جماعت کی حمایت وہ کرتے ہیں عوام کے مسائل حل نہیں کرتی۔

ساٹھ فیصد شہری سیاسی جماعت کے دفتر تشریف لے جائينگے (گفتگو/بات چیت وغیرہ کے لئے) اگر انہیں مدعو کیا جائے۔

پاکستان کو ایک تہائی سے زائد (٪36) 'تقسیم' اور تقریباً اتنی ہی تعداد (٪35) 'غربت' کی طرف جاتا دیکھ رہے ہیں؛ پاکستان کے مختلف امور میں اکثریت 'کرپشن' کو پہلے درجے پر رکھتی ہے اور ٪38 'احتساب کے نہ ہونے' کو "گورنینس میں" کرپشن کی اصل وجہ سمجھتے ہیں۔ 

صرف ٪7 شہری سمجھتے ہیں 'حکومت اکثر اچھی کارکردگی دیکھاتی ہے' اور تقریباً دس میں نو (٪91) شہری سمجھتے ہیں 'حکومتی نمائندے پرواہ نہیں کرتے' کہ عام شہری کیا سوچتا ہے۔ دس میں چار (٪41) شہریوں کا سیاست دانوں کا تصور 'مفاد پرست' اور دس میں تین (٪30) کا 'مغرب کے اشاروں' پر چلنے والے ہے۔

اس اسلامی ریاست کی سالمیت کو ٪93 کے مطابق نقصان پہنچ رہا ہے؛ ٪51 سمجھتے ہیں "'سیاسی عدم استحکام' اور 'پالیسی مرتب کرنے میں مغرب کی مداخلت'" کی وجہ سے سالمیت کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ ٪39 سمجھتے ہیں صرف 'پالیسی مرتب کرنے میں مغرب کی مداخلت' کی وجہ سے سالمیت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ 

جن جوابدہ کے جواب میں "پالیسی مرتب کرنے میں مغرب کی مداخلت" شامل تھا ان میں ٪54 سمجھتے ہیں "'کٹھ پتلی حکومتی نمائندوں' اور 'ڈرون حملوں'" کی وجہ سے سالمیت کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ ٪39 سمجھتے ہیں صرف 'کٹھ پتلی حکومتی نمائندوں' کی وجہ سے سالمیت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ 

نصف سے زائد (٪55) متفق ہیں کہ پاکستان امریکہ کی (دہشت گردی کے خلاف) جنگ لڑتا آرہا ہے؛ ٪42 کے مطابق اس جنگ کا مقصد 'پاکستان کو غیرمستحکم' کرنا اور ٪45 کے مطابق 'مغرب کا مفاد' ہے۔ 

تقریباً تمام جوابدہ (٪98) پاکستان میں غیرملکی فوجی اڈوں کے حق میں نہیں ہیں اور تقریباً سبھی (٪97) پاکستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی کی مخالفت کرتے ہیں۔ 

صرف ٪7 غیرملکی جنگی آپریشن (نیٹو کی طرز کے) میں تعاون اور اتنی ہی تعداد بجٹ مرتب کرنے میں مغرب (آئی-ایم-ایف) کی نگرانی کی حمایت کرتے ہیں۔ 

جوابدہ میں ٪54 کی رائے کے مطابق قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں سے 'جنگجو' اور 'شہری' دونوں جبکہ ٪43 کے مطابق صرف 'شہری' ہلاک ہوتے ہیں؛ تقریباً سبھی (٪97) حملوں کے خلاف ہیں۔ 

           تین چوتھائی (٪76) قبائلی علاقوں میں جنگجوؤں سے مذاکرات کی حمایت جبکہ اتنی ہی تعداد (٪77) علاقے میں پاکستان میلٹری آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں۔ 

سروے رپورٹ:

Surveying Committee_facebook page:

Wednesday, March 27, 2013

Public Opinion on Society, Politics, Governance & Sovereignty

March 12, 2013

This unprecedented research was conducted in Islamabad (Pakistan) by Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) members and non-members using convenience sampling

Total 2,420 questionnaires were distributed among PTI members and non-members (the enumerators); collected 1,495 filled questionnaires and considered 897 questionnaires for analysis.

Citizens aged eighteen and above were interviewed; fieldwork was conducted from September to December 2011 and January to December 2012.


Figures are in percentages, rounded to the nearest whole number.

Three-in-ten (30%) consider our society selfish and the same number (30%) consider impatient / intolerant whereas only 5% consider generous. Majority thinks that people in our society, believe in money and designation more than in hard work and honesty.

About being socially relaxed and secure in coming year, only 7% are positive whereas one-in-ten (10%) sees oneself economically stable. Forty per cent think because of low income / poverty and 35% think because of unemployment, people are compelled to commit suicide.

Nine-in-ten (90%) oppose luxurious lifestyle of elected
representatives; ‘public servant’ is the view of head of Islamic welfare state of more than eight-in-ten (83%) whereas nearly nine-in-ten (92%) are positive about expenses of government to be reduced. 

About educating their child, majority (90%) (/ will) focus on moral and intellectual upbringing than traditional graduate studies; more than nine-in-ten (93%) support one-education system.

About six-in-ten (61%) record their protest when they see human rights being violated whereas ‘justice’ is the major concern of more than half (55%); nearly six-in-ten (57%) think ‘no rule of law’ is the main cause of corruption “in society”.

View of politics of nearly half (46%) is, art and science of government and more than six-in-ten (64%) don’t vote because of ‘dishonesty in politics’.

View of political parties of 32% is ‘puppet show’, of 27% is ‘institutions’ and of 25% is ‘one-man show’. About a quarter (26%) vote on basis of party’s ‘ideology’ and almost the same number (25%) vote on basis of party’s ‘social development programs’.

Six-in-ten (60%) vote because of their ‘own viewpoint’; eight-in-ten (80%) will vote in next election whereas nearly seven-in-ten (68%) said, if the party they support does not solve their problems - they will vote a different party.

Sixty per cent said they will visit the office, if a political party invites for discussion.
More than one-third (36%) see their country heading towards ‘segmentation’ and almost the same number (35%) towards ‘poverty’; majority ranked issue of ‘corruption’ at number one and 38% think ‘no accountability’ is main cause of corruption “in governance”.

Only 7% think government often performs well and nearly nine-in-ten (91%) think, government representatives don’t care what a common citizen thinks. View of politicians of about four-in-ten (41%) and three-in-ten (30%) is ‘opportunist’ and ‘puppets of West’ respectively.

When asked about sovereignty of this Islamic state, 93% think sovereignty is being damaged; 51% think because of both ‘political instability’ and ‘involvement of West in policy-making’ whereas 39% think only because of ‘involvement of West in policy-making’.

Those whose answer included involvement of West in policy-making were further asked about the issue – according to 54%, sovereignty is being damaged because of both ‘puppet government representatives’ and ‘drone attacks’; 39% think only because of ‘puppet government representatives’.

Pakistan has been fighting America’s war (against terrorism) according to more than half (55%) of the respondents; 42% think purpose of the war is to ‘destabilize Pakistan’ and 45% think, West’s interest in the region.

Almost all the citizens of federal capital (98%) are not in favor of foreign military bases and nearly the same number (97%) opposes presence of foreign military troops in Pakistan.

Only 7% favor cooperation in foreign military operations (like that of NATO) and same percentage favors supervision of Western institutions (like IMF) in budget making.

Regarding drone attacks in tribal areas, 54% has the opinion that both militants and civilians are killed whereas 43% think only civilians are killed; nearly all (97%) are against the attacks.

When asked about dialogue with militants (in tribal regions), about three-quarters (76%) favor dialogue and almost the same number (77%) opposes Pakistan military operation in the region.

Survey Report:

First political survey; documented public opinion from a political platform by utilizing human resource of the party on-ground and by engaging students in 'research in politics' for the first time in political history of Pakistan.